جبہ و دستار
قسم کلام: اسم نکرہ
معنی
١ - "لمبا چوغہ اور پگڑی جو عالم ہونے کی علامت سمجھی جاتی ہے۔" "جبہ و دستار سے آراستہ تھا۔" ( ١٩٣٧ء، فلسفۂ نتائجیت، ١٤ )
اشتقاق
عربی زبان سے ماخوذ اسم 'جبہ' کے بعد حرف عطف 'و' لگا کر فارسی اسم 'دستار' لگانے سے مرکب عطفی 'جبہ و دستار' بنا اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٦٥ء میں نسیم دہلوی کے دیوان میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - "لمبا چوغہ اور پگڑی جو عالم ہونے کی علامت سمجھی جاتی ہے۔" "جبہ و دستار سے آراستہ تھا۔" ( ١٩٣٧ء، فلسفۂ نتائجیت، ١٤ )
جنس: مؤنث